Friday, 10 April 2015

ایٹمی مذاکرات اور یمن کے واقعات کے سلسلے میں رہنما خطاب، سعودی حکومت کو سخت انتباہ پرنٹ کریں

ایٹمی مذاکرات اور یمن کے واقعات کے سلسلے میں رہنما خطاب، سعودی حکومت کو سخت انتباہ پرنٹ کریں
09-04-2015
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے یوم ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے خواتین، شعرا اور ذاکرین اہل بیت علیہم السلام سے ملاقات میں بنت رسول کے یوم ولادت کی مبارکباد پیش کی اور ایٹمی مذاکرات اور یمن کے واقعات کے سلسلے میں انتہائی کلیدی نکات بیان کئے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو کا آغاز اس تمہید سے کیا کہ بعض افراد یہ سوال کر رہے ہیں کہ قائد انقلاب اسلامی نے حالیہ ایٹمی مذاکرات کے سلسلے میں کسی موقف کا اظہار کیوں نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: قائد انقلاب کی جانب سے موقف کا اظہار نہ کئے جانے کی وجہ یہ ہے کہ کسی موقف کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ملک کے حکام اور ایٹمی امور کے ذمہ دار افراد یہ کہہ رہے ہیں کہ ابھی کام انجام نہیں پایا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان کوئی بھی موضوع لازم الاجراء ہونے کی حد تک نہیں پہنچا ہے۔"
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایسی صورت حال میں کسی موقف کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: "اگر مجھ سے یہ پوچھا جائے کہ آپ حالیہ ایٹمی مذاکرات سے اتفاق رکھتے ہیں یہ اختلاف؟ تو میں یہی کہوں گا کہ نہ موافق ہوں اور نہ مخالف، کیونکہ ابھی کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔"
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ ساری مشکلات کا آغاز وہاں سے ہوگا جہاں تفصیلات اور جزوی امور کے بارے میں بحث شروع ہوگی کیونکہ مد مقابل فریق ضدی، عہد شکن، بد دیانت اور پیٹھ میں خنجر گھونپنے والا ہے اور عین ممکن ہے کہ تفصیلات کے بارے میں بحث کا آغاز ہونے کے بعد ملک، قوم اور مذاکرات کاروں کو گھیرنے کی کوشش کی جائے۔
آپ نے فرمایا: "اب تک جو کچھ ہوا ہے اس سے نہ تو معاہدے کی، نہ ہی معاہدے پر منتج ہونے والی مذاکرات کی اور نہ ہی معاہدے کے مندرجات کی کسی بھی چیز کی ضمانت نہیں ملتی لہذا مبارکباد پیش کرنے کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔"
قائد انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے چند نکات کی جانب اشارہ کیا۔ آپ نے فرمایا: "امریکا سے مذاکرات کے سلسلے میں میں کبھی بھی پرامید نہیں رہا اور اس کی وجہ کوئي توہم نہیں بلکہ اس بارے میں اب تک حاصل ہونے والے تجربات ہیں۔"
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: "اگر مستقبل میں مسائل و واقعات کی تفصیلات اسی طرح ان دنوں انجام پانے والے ایٹمی مذاکرات کے تحریری نوٹس منظر عام پر آئے تو سب کو معلوم ہو جائے گا کہ ہمیں یہ تجربہ کہاں سے حاصل ہوا ہے؟!"
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: "میں امریکا سے مذاکرات کے سلسلے میں پرامید نہیں تھا لیکن پھر بھی میں نے اس مسئلے میں مذاکرات کی بھرپور حمایت کی اور آگے بھی حمایت کروں گا۔"
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: "ملت ایران کے وقار کا تحفظ کرنے والے معاہدے کی سو فیصدی حمایت کروں گا، چنانچہ اگر کوئی کہتا ہے کہ قائد انقلاب اسلامی معاہدہ کئے جانے کے مخالف ہیں تو یہ بات خلاف حقیقت ہے۔"
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ وہ ایران اور ایرانی عوام کے مفادات کو پورا کرنے والے معاہدے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: "البتہ میں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ برے معاہدے سے بہتر ہے کہ معاہدہ نہ کیا جائے کیونکہ ملت ایران کے مفادات کو پامال اور قوم کے وقار کو مجروح کرنے والے معاہدے کو مسترد کر دینا اس معاہدے سے برتر ہے جو ملت ایران کی تحقیر کا باعث بنے۔"
قائد انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں ایک اہم ابہام کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ مذاکرات کی تمام تفصیلات پر قائد انقلاب کی پوری نظر ہے، جبکہ یہ بات من و عن درست نہیں ہے۔ قائد انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ میں مذاکرات کے سلسلے میں لا تعلق نہیں ہوں مگر اب تک میں نے مذاکرات کے جزوی امور میں مداخلت نہیں کی ہے اور آئندہ بھی فروعات میں مداخلت نہیں کروں گا۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: "میں نے بنیادی مسائل، اصلی خطوط، پیرائے اور ریڈ لائنوں سے بنیادی طور پر صدر محترم کو اور انتہائی محدود موارد میں وزیر خارجہ کو آگاہ کر دیا ہے تاہم فروعات اور جزوی امور انہیں کے اختیار میں ہیں۔"
قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ مذاکرات انجام دینے والوں پر مجھے اعتماد ہے اور تاحال ان کی نسبت مجھے کوئی شک و تردد نہیں رہا اور ان شاء اللہ آئندہ بھی ایسا ہی رہے گا تاہم ایٹمی مذاکرات کے سلسلے میں مجھے گہری تشویش ہے۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے مطابق تشویش کی اصلی وجہ مد مقابل فریق ہے جو فریب دہی، دروغ گوئی، عہد شکنی اور صحیح راستے کے برخلاف حرکت کرنے کا عادی ہے۔ آپ نے فرمایا: "اس روئے کا ایک نمونہ حالیہ مذاکرات کے تعلق سے دیکھنے میں آیا جب وائٹ ہاؤس نے مذاکرات کے اختتام کے تقریبا دو گھنٹے بعد مذاکرات کی تشریح پر مبنی چند صفحات کا اعلامیہ جاری کیا جس میں اکثر باتیں خلاف واقع تھیں۔"
آپ نے فرمایا: "دو گھنٹے کے اندر اس طرح کے اعلامئے کی نگارش ممکن نہیں ہے، بنابریں اسی دوران جب وہ ہم سے مذاکرات کر رہے تھے، اس مخدوش، غلط اور مذاکرات کے اصلی مضمون کے برخلاف اعلامیئے کی تدوین میں بھی مصروف تھے۔"
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ ہمارا مد مقابل فریق دھوکے باز اور بدعہدی کرنے والا فریق ہے۔ آپ نے فرمایا: "ایک اور نمونہ یہ ہے کہ ہر دور کے مذاکرات کے بعد وہ پہلے اعلانیہ بیان دیتے ہیں اور پھر نجی طور پر بات کرتے ہیں، یہ بیان ملک کے اندر اپنی ساکھ بچانے اور مخالفین کا منہ بند کرنے کے لئے ہوتی ہیں جبکہ ان مسائل کا ہم سے کوئی ربط ہی نہیں ہے۔"
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: "وہ لوگ اسی معروف ضرب المثل کے مطابق کہ 'کافر ہمہ را بہ کیش خود پندارد' یہ فرماتے ہیں کہ اگر ایران میں قائد انقلاب بھی مذاکرات کی مخالفت کریں تو ان کی یہ بات زمینی سچائی کے مطابق نہیں ہوگی بلکہ وہ داخلی طور پر اپنی عزت بچانے کے لئے یہ مخالفت کریں گے، حالانکہ ان (امریکیوں) کو ایران کے اندر کے حالات کا کوئی ادراک ہی نہیں ہے۔"
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ قائد انقلاب کی عوام سے ہر گفتگو باہمی اعتماد کی بنیاد پر ہوتی ہے اور جس طرح عوام کو اس بندہ حقیر پر اعتماد ہے اسی طرح مجھے بھی عوام پر پورا بھروسہ ہے اور میرا عقیدہ ہے کہ دست خدا ہمیشہ ان عوام کا مددگار رہا ہے۔
آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: "بائیس بہمن (مطابق 11 فروری اسلامی انقلاب کی سالگرہ) کی شدید سردی میں اور ماہ رمضان کی شدید گرمی میں یوم قدس کے موقع پر عوام کی بھرپور شراکت، اس بات کی علامت ہے کہ دست خدا ان عوام کے سروں پر ہے اور اسی لئے ان عوام پر ہمیں پورا بھروسہ ہے اور عوام سے ہماری گفتگو اسی جذبے، صداقت اور بصیرت کے تناظر میں ہوتی ہے۔"
قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ مجھے مذاکرات کے آئندہ ادوار میں مد مقابل فریق کے طرز سلوک کی بابت تشویش ہے۔ آپ نے ایٹمی مذاکرات کے سلسلے میں بعض موافقتوں اور مخالفتوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اس معاملے میں بالکل مبالغہ آرائی اور عجلت پسندی نہیں ہونی چاہئے بلکہ صبر کے ساتھ انتظار کرنا چاہئے کہ سرانجام کیا ہوتا ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ حکام عوام کو اور خاص طور پر اہم شخصیات کو مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کریں اور انہیں حقائق سے باخبر کریں کیونکہ اس میں کوئی رازداری کی بات نہیں ہے۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ عوام اور اہم شخصیات کو ایٹمی مذاکرات کی تفصیلات سے باخبر کرنا عوام سے حکام کی ہمدلی کا مصداق ہوگا۔ آپ نے زور دیکر کہا کہ ہمدلی کوئی ایسی شئے نہیں کہ جس کا حکم جاری کیا جائے، بلکہ اسے وجود میں لانا اور پروان چڑھانا پڑتا ہے اور موجودہ حالات عوام سے ہمدلی پیدا کرنے کے لئے بہت مناسب حالات ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے ملک کے حکام کو ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکام جو سچے اور قومی مفادات سے گہرا لگاؤ رکھنے والے افراد ہیں، انہیں چاہئے کہ مذاکرات کے اہم ناقدین کو دعوت دیں اور ان سے گفتگو کریں، اگر ان کی باتوں میں کوئی اہم نکتہ نظر آئے تو اسے مذاکرات کو بہتر انداز میں آگے لے جانے کے لئے استعمال کریں اور اگر کوئی اہم نکتہ نہ ہو تو انہیں مطمئین کریں۔ قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ یہ ہمدلی اور دلوں اور افعال میں یکسانیت و یگانگت پیدا کرنے کا عینی مصداق ہے۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ ممکن ہے کہ حکام یہ کہیں کہ حتمی معاہدے کے لئے صرف تین مہینے کی مہلت ہونے کی وجہ سے ناقدین کی باتیں سننے اور ان سے بحث کرنے کی فرصت نہیں ہے، مگر جواب میں یہ کہنا چاہئے کہ یہ تین مہینے کی مہلت ایسا موضوع نہیں ہے کہ جس میں کوئی تبدیلی نہ کی جا سکتی ہو، چنانچہ اگر اس مدت میں توسیع کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، جیسا کہ مد مقابل فریق نے مذاکرات کے ایک مرحلے میں سات مہینے کے لئے اسے ملتوی کر دیا تھا۔
قائد انقلاب اسلامی نے ایک بار پھر یہ بات زور دیکر کہی کہ امریکیوں سے مذاکرات صرف ایٹمی مسئلے میں ہو رہے ہیں، کسی اور مسئلے میں کوئی گفتگو نہیں ہو رہی ہے۔ آپ نے فرمایا: " البتہ ایٹمی مسئلے میں مذاکرات ایک تجربہ ہے۔ اگر مد مقابل فریق اپنی کج فکری سے باز آ جائے تو ممکن ہے کہ اس تجربے کو دیگر مسائل میں دہرایا جائے، لیکن اگر اس کی کج فکری جاری رہی تو امریکا پر بے اعتمادی کے سلسلے میں ہمارا سابقہ تجربہ اور بھی مستحکم ہو جائے گا۔"
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مد مقابل فریق کو عالمی برادری قرار دینے پر مبنی بعض بیانوں پر اعتراض کرتے ہوئے فرمایا کہ ملت ایران کا مد مقابل فریق جو عہد شکنی کرتا ہے وہ امریکا اور تین یورپی ممالک ہیں، عالمی برادری نہیں، عالمی برادری تو وہی ڈیڑھ سو ممالک ہیں جن کے سربراہان اور اعلی نمائندوں نے چند سال قبل تہران میں ناوابستہ تحریک کے اجلاس میں شرکت کی، چنانچہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہمارا مد مقابل فریق عالمی برادری ہے اور اسے ہم پر اعتماد ہونا چاہئے، لا یعنی بات ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اس کے بعد ان چیزوں کا ذکر کیا جن کا مطالبہ آپ نے ایٹمی مسئلے سے متعلق عہدیداروں کے ساتھ نجی نشستوں میں کیا۔ آپ نے فرمایا کہ میری تاکید یہ ہے کہ حکام ایٹمی شعبے میں حاصل ہونے والی اب تک کی کامیابیوں کو انتہائی اہم سمجھیں اور انہیں کم ارزش اور معمولی نہ گردانیں۔ آپ نے زور دیکر کہا کہ ایٹمی صنعت ملک کی ایک ضرورت ہے اور بعض روشن خیال نما افراد جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایٹمی صنعت کی کیا ضرورت ہے؟ تو یہ بات ایک فریب ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے انرجی، نیوکلیئر میڈیسن، سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے اور زراعت جیسے مختلف شعبوں میں ایٹمی صنعت کی ضرورت و افادیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ملک کی ایٹمی صنعت کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس حد درجہ اہم صنعت تک رسائی، ایرانی نوجوانوں کی صلاحیتوں اور استعداد کے جلوہ گر ہونے کا ثمرہ ہے، بنابریں ایٹمی صنعت میں پیشرفت کا عمل جاری رہنا چاہئے۔
قائد انقلاب اسلامی نے مجرمانہ اقدامات کے مرتکب ہونے والے ملکوں جیسے نیوکلیئر بم کا استعمال کرنے والے امریکا اور خطرناک ایٹمی تجربات کرنے والے فرانس کے دعوؤں اور الزام تراشی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ وہ ہم پر ایٹمی اسلحہ بنانے کی کوشش کرنے کا الزام لگاتے ہیں، حالانکہ اسلامی جمہوریہ ایران شرعی فتوے کی بنیاد پر اور اسی طرح عقلی اصولوں کی پیروی کرنے کی وجہ سے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار کے حصول کے لئے کوشاں نہیں رہا اور نہ ہی کبھی یہ کوشش کرے گا، بلکہ ایران اسے ایک طرح کا درد سر سمجھتا ہے۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ مد مقابل فریق پر ہرگز اعتماد نہ کریں۔ آپ نے فرمایا کہ حال ہی میں ہمارے ایک عہدیدار نے کہا کہ "ہمیں مد مقابل فریق پر اعتماد نہیں ہے"، اس طرح کا موقف بالکل درست ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ مد مفابل فریق کی مسکراہٹ کے فریب میں نہیں آنا چاہئے اور نہ ہی اس کے دلکش وعدوں پر اعتماد کرنا چاہئے۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ حالیہ بیان جاری ہونے کے بعد امریکی صدر کی گفتگو اور موقف اس کا واضح نمونہ ہے۔
قائد انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ حکام سے ان کا ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ پابندیاں یکجا منسوخ کرائی جائیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے، پابندیاں معاہدے کے دن ہی مکمل طور پر منسوخ ہو جانی چاہئیں۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ اگر پابندیوں کی منسوخی کسی نئے میکینزم سے مربوط کی جانی ہے تو مذاکرات کی بنیاد بے معنی ہوگی کیونکہ مذاکرات کا مقصد ہی پابندیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے ایٹمی مسئلے سے متعلق حکام سے اپنے ایک اور اہم مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے نگرانی اور چیکنگ کے مسئلے کو اٹھایا۔ آپ نے فرمایا کہ ہرگز یہ اجازت نہیں دی جانی چاہئے کہ نگرانی کے نام پر ملک کی دفاعی اور سیکورٹی حدود کے قریب کوئی آئے اور ملک کے دفاعی شعبے کے حکام کو بھی کسی بھی حالت میں یہ اجازت نہیں ہے کہ نگرانی اور تحقیق کے نام پر اغیار کو ان حدود کے قریب آنے کا موقع دیں یا ملک کی دفاعی شعبے کی پیشرفت کے عمل کو روکیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: "دفاعی شعبے کی توانائي اور فوجی میدان میں ملت ایران کا محکم گھونسا اسی طرح طاقتور بنا رہے اور روز بروز اس کی قوت میں اضافہ ہو۔ اسی طرح مذاکرات کے دوران کسی بھی حالت میں مختلف خطوں میں مزاحمت کرنے والے برادران کی حمایت میں ذرہ برابر خلل اندازی کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے۔"
قائد انقلاب اسلامی نے ایران کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی کے عمل کے سلسلے میں فرمایا: "کوئی بھی غیر معمولی نگرانی کا میکینزم جو نظارت کے اعتبار سے ایران کو ایک الگ ملک بنا دے، قابل قبول نہیں ہے بلکہ نگرانی اسی دائرے میں ہونی چاہئے جس دائرے میں دنیا میں عام طور پر انجام دی جاتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔"
وطن عزیز کی ایٹمی ٹکنالوجی کا ڈیولپمنٹ جاری رہنے سے متعلق آخری ہدایت دیتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ مختلف پہلوؤں سے سائنسی اور تکنیکی ترقی کا عمل جاری رہنا چاہئے، البتہ ممکن ہے کہ مذاکراتی ٹیم بعض محدودیتیں قبول کئے جانے کو لازمی سمجھے تو اس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم ٹکنالوجی کی ترقی کا عمل حتمی طور پر جاری رہے اور پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھے۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: "ان مطالبات کی تکمیل مذاکرات کاروں کے ذمے ہے، انہیں چاہئے کہ باخبر اور امین افراد اسی طرح ناقدین کے نظریات اور مشوروں کی مدد سے مذاکرات کا صحیح طریقہ تلاش کریں اور اس کے مطابق عمل کریں۔"
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس کے بعد اپنی تقریر میں یمن کے انتہائی اہم واقعات کا ذکر کرتے ہوئے زور دیکر کہا کہ یمن کے خلاف جارحیت کرکے سعودیوں نے بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور علاقے میں بہت بری بدعت کی بنیاد رکھ دی ہے۔
قائد انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ ان دنوں یمن میں سعودی حکومت کے اقدامات غزہ میں صیہونیوں کے جرائم سے مماثلت رکھتے ہیں۔ آپ نے اس مسئلے کے دو انتہائی اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے ملت یمن کے خلاف فوجی کارروائی کو مجرمانہ، نسل کشی اور بین الاقوامی سطح پر قانونی چارہ جوئی کے قابل فعل قرار دیا اور فرمایا کہ کسی ملک کے بچوں کو مارنا، گھروں کو مسمار کرنا بنیادی انفراسٹرکچر اور قومی سرمائے کو نابود کرنا بہت بڑا جرم ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ یقینی طور پر سعودیوں کو اس مسئلے میں نقصان اٹھانا پڑے گا اور وہ کسی بھی حالت میں فتحیاب نہیں ہوں گے۔
قائد انقلاب اسلامی نے سعودیوں کی شکست کی پیشین گوئی کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس پیشین گوئی کی وجہ بالکل واضح ہے، کیونکہ صیہونیوں کی عسکری توانائی سعودیوں سے کئی گنا زیادہ ہے اور غزہ کا علاقہ بہت چھوٹا سا علاقہ تھا لیکن پھر بھی صیہونی کامیاب نہیں ہو سکے، جبکہ یمن کروڑوں کی آبادی والا ایک وسیع و عریض ملک ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ اس مسئلے میں سعودیوں پر یقینی ضرب پڑے گی اور ان کی درگت بن جائےگی۔
قائد انقلاب اسلامی نے خارجہ سیاست کے میدان میں سعودیوں کے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: "گوناگوں سیاسی مسائل کے بارے میں سعودیوں سے ہمارے اختلافات ہیں لیکن ہم نے ہمیشہ یہ کہا کہ وہ خارجہ سیاست کے میدان میں متانت اور وقار کا ثبوت دیتے ہیں، لیکن چند ناتجربہ کار جوانوں نے اس ملک کے امور اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں اور متانت اور ظاہر داری کے پہلو پر وحشی پنے کے پہلو کا غلبہ ہو رہا ہے اور یہ عمل یقینا انہیں نقصان پہنچائے گا۔"
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے سعودی حکومت کو مخاطب کرکے فرمایا : "علاقے میں یہ اقدام قابل قبول نہیں ہے اور میں خبردار کرتا ہوں کہ وہ یمن میں مجرمانہ کارروائیاں کرنے سے باز آ جائیں۔"
قائد انقلاب اسلامی نے اس کے بعد امریکا کی جانب سے سعودی حکومت کی حمایت اور دفاع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ امریکا کی سرشت ہے کہ تمام واقعات میں مظلوم کی حمایت کرنے کے بجائے ظالم کی طرفداری کرتا ہے، لیکن اس مسئلے میں امریکیوں کو بھی مار پڑے گی اور وہ بھی ہزیمت اٹھائيں گے۔
قائد انقلاب اسلامی نے ایران کے خلاف یمن میں مداخلت کے بے بنیاد الزام کا ذکر بھی کیا، آپ نے فرمایا: "مجرمانہ کارروائیاں کرنے والے ان کے طیاروں نے یمن کی فضا کو غیر محفوظ بنا دیا ہے اور اس کے بعد بھی یمن میں مداخلت کے لئے احمقانہ بہانے تراشتے ہیں جو اللہ تعالی اور قوموں کی نظر میں اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بالکل ناقابل قبول ہیں، اور وہ اپنے ان اقدامات کو مداخلت ماننے پر تیار نہیں بلکہ الٹے ایران پر الزام تراشی کرتے ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے ملت یمن کو قدیم تاریخ رکھنے والی قوم قرار دیا جو اپنی حکومت کا تعین خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آپ نے زور دیکر کہا کہ سعودی حکومت کو چاہئے کہ فورا ان المناک جرائم کا سلسلہ بند کرے۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ ملت یمن کے دشمنوں کی پہلے سے منصوبہ بند سازش یہ تھی کہ اقتدار کا خلا پیدا ہو اور یمن میں بھی لیبیا جیسے انتہائي خراب اور کربناک حالات پیدا ہو جائیں۔ آپ نے فرمایا کہ خوشی کا مقام ہے کہ دشمن اپنا یہ ہدف پورا کرنے میں ناکام ہو گیا کیونکہ مومن، ہمدرد اور پختہ عقیدہ رکھنے والے نوجوان جن میں شیعہ، سنی، زیدی اور حنفی سب شامل ہیں، حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی روش پر عمل کرتے ہوئے ڈٹ گئے اور آئندہ بھی استقامت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور انہیں فتح بھی ملے گی۔

دخت رسول سیدہ کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت

شہزادی ؑ کائنات قرآن مجید کی روشنی میں
دخت رسول سیدہ کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت اور یوم مادر کے موقع پر تمام عالم اسلام و عاشقان اہلبیت مخصوصا ابنا کے قارئین کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
جن لوگوں نے حق کی راہ میں قربانی دی ہے قرآن مجید کی آیتوں میں ان کی تجلیل و تعظیم کے ساتھ ساتھ ان کی مدح و ثنا بھی ہوئی ہے چنانچہ ان آیتوں کی تلاوت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔قرآن مجید نے جن لوگوں کا خصوصی تذکرہ کیا ہے اور ان کے کردار اور فضائل و کمالات کی نمایاں طور سے تعریف کی ہے ان میں اہلبیت ؑ پیغمبر ہر مقام پر سر فہرست نظر آتے ہیں مورخین اور مفسرین نے نقل کیا ہے کہ ان حضرات کی مدح وثنا میں کثرت کے ساتھ قرآن مجید کی آیتیں نازل ہوئی ہیں بلکہ قرآن مجید کے متعدد سورے تو ان کے بتائے ہوئے جادۂ حق اور ان کے حسن عمل کی تائید اور مدح سرائی کے ساتھ ان کی پیروی کی دعوت سے مخصوص ہیں۔۱۔کوثر رسالتکوثر یعنی خیر کثیر اور اگر چہ بظاہر اس میں وہ تمام نعمتیں شامل ہیں جن سے اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیؐ کو نوازا تھا لیکن سورۂ کوثر کی آخر ی آیت کی شان نزول کے بارے میں جو تفصیلات ذکر ہوئے ہیں ان سے یہ بالکل واضح ہے کہ اس خیر کثیر کاتعلق کثرت نسل اور اولاد سے ہے جیسا کہ آج پوری دنیا جانتی ہے کہ رسول اسلامؐ کی نسل طیبہ آپ کی اکلوتی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا 236 سے ہی چلی ہے جسکا تذکرہ حضور اکرمؐ کے بعض احادیث میں بھی موجود ہے۔مفسرین نے اس سلسلہ میں یہ نقل کیا ہے کہ عاص بن وائل نے ایک دن قریش کے بڑے بڑے لوگوں سے یہ کہا:محمد تو لا ولد،ہیں اور ان کا کوئی بیٹا نہیں ہے [1]جو ان کا جانشین بن سکے لہٰذا جس دن یہ دنیا سے چلے جائیں گے اس دن ان کا کوئی نام لینے والا بھی نہ رہے گا۔
یہی شان نزول جناب ابن عباس اور اکثر اہل تفسیر نے ذکر کی ہے[2]اور مشہور مفسر، فخر رازی نے کوثر کے معنی کے بارے میں اگر چہ مفسرین کے اختلاف کا تذکرہ کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے واضح الفاظ میں یہ بھی تحریر کیا ہے کہ’’اور تیسرا نظریہ ،یہ ہے کہ کوثر سے مراد آپ ؑ کی اولاد ہے ۔
کیونکہ یہ سورہ اسشخص کے جواب میں نازل ہوا ہے جس نے آپؑ کو بے اولاد ہونے کا طعنہ دیا تھا لہذا اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کو ایسی نسل عطا گئی ہے جو ہمیشہ باقی رہے گی(اسکے بعد کہتے ہیں)چنانچہ آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ اہلبیت ؑ کا کس طرح قتل عام کیا گیا ہے؟پھر بھی دنیا ان سے بھری ہوئی ہے جب کہ بنی امیہ کا کوئی نام لینے والا بھی نہیں ہے نیز آپ یہ بھی دیکھئے کہ ان کے در میان کتنے بڑے بڑے اور اکا بر علماء گذرے ہیں جیسے (امام محمد )باقر(امام جعفر)صادق(امام موسیٰ)کاظم (امام علی)رضا 22اور نفس زکیہ و غیرہ ۔جس طرح آیۂ مباہلہ دلیل ہے[3] کہ امام حسن و حسین ؑ رسول اللہ (ص) کے بیٹے ہیں اسی طرح اس بارے میں آنحضرتؐ کی متعددحدیثیں بھی موجود ہیں کہ خداوند عالم نے ہر نبی کی ذریت اسکے صلب میں رکھی ہے اور ختمی مرتبتؐ کی نسل کو حضرت علی ؑ کے صلب میں قرار دیا ہے نیز صحاح میں پیغمبر اکرمؐ کی یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ آپ نے امام حسن ؑ کے بارے میں یہ فرمایاتھا:میرا یہ بیٹا سید و سردار ہے اور اللہ عنقریب اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے[4]۔
فاطمہ زہرا ؑ سورۂ دہرمیں
ایک روزامام حسن ؑ اور امام حسین ؑ مریض ہوئے اور رسول اسلام ؐکچھ لوگوں کے ساتھ ان کی عیادت کرنے گئے تو آپؐ نے فرمایا: اے علی ؑ تم اپنے ان دونوں بیٹوں کی شفا کے لئے کچھ نذر کر لو!چنانچہ حضرت علی ؑ و فاطمہؐ اور آپ ؑ کی کنیز فضہ نے یہ نذر کی کہ اگر یہ دونوں شفا یاب ہوگئے تو ہم تین روز ے رکھیں گے چنانچہ دونوں شہزادے بالکل شفا یاب ہوگئے گھر میں کچھ نہیں تھاحضرت علی ؑ ،شمعون یہودی سے تین صاع(سیر) جو ادھار لیکر آئے جن میں سے شہزادی کائنات ؑ نے ایک سیر جو کاآٹا پیس کر اسی کی پانچ روٹیاں بنالیں اور سب لوگ انھیں اپنے سامنے رکھ کر افطار کرنے بیٹھ گئے کہ اسی وقت ایک سائل نے آکر سوال کیا:اےحضرت محمدؐ کے اہلبیت ؑ آپ حضرات کی خدمت میں سلام عرض ہے،میں ۔
مسلمان مسکینوں میں سے ایک مسکین ہوں مجھے کھانا عطا فرما دیجئے اللہ تعالی آپ کو جنت کے کھانوں سے سیر وسیراب فرمائے:سب نے ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تمام روٹیاں سائل کو دے دیں اور پانی کے علاوہ کچھ نہیں چکھا اور صبح کو پھر روزہ رکھ لیا شام کو جب روزہ کھولنے کے لئے بیٹھے تو ایک یتیم نے آکر سوال کرلیا اور انھوں نے اس یتیم کو اپنا کھانا دیدیا تیسرے دن ایک اسیر آگیا اور اس دن بھی گذشتہ واقعہ پیش آیا صبح کو حضرت علی ؑ امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ کا ہاتھ پکڑ کر رسول اکرمؐ کی خدمت میں لے گئے جب ان پر آنحضرتؐ کی نظرپڑی تو دیکھا کہ وہ بھوک کی شدت سے لرز رہے ہیں آپؐنے فرمایا میرے لئے یہ کتنی تکلیف دہ بات ہے یہ تمہاری کیا حالت ہے؟پھرآپؐ ان کے ساتھ جناب فاطمہؐ کے گھر تشریف لے گئے تو کیا دیکھا کہ شہزادیؑ کائنا ت محراب میں مشغول عبادت ہیں اور ان کاپیٹ کمر سے ملا ہوا ہے اور آنکھیں اندر دھنس چکی تھیں یہ دیکھ کر آپ کو مزید تکلیف ہوئی تب جناب جبرئیل آپ کی خدمت میں نازل ہوئے اور کہا :اے محمدؐ آپ کو مبارک ہو یہ لیجئے خداوند عالم نے آپ کو آپ کے اہل بیت ؑ کے بارے میں مبارکبادپیش کی ہے ،پھر انھوں نے اس سورہ کی تلاوت فرمائی[5]۔مختصر یہ کہ شہزادی کائناتؐ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالی نے یہ گواہی دی ہے کہ آپ ان نیک لوگوں میں سے ہیں جو اس جام شربت سے سیراب ہوں گے جس میں کافور کی آمیزش ہوگی یہی وہ حضرات ہیں جو اپنی نذر کوپوراکرتے ہیں اور اس دن کے شر سے خائف رہتے ہیں جس کا شر ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گااور یہی وہ حضرات ہیں جو کھا نے کی ضرورت ہونے کے باوجود اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں چاہے اسکی وجہ سے انھیں دشواریوں کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے اور وہ صرف خدا کی مرضی اور خوشی کے لئے کھانا کھلاتے ہیں اور ان سے کسی قسم کے شکریہ اور بدلہ کے خواہشمند نہیں رہتے یہی وہ حضرات ہیں جنھوں نے خدا کے لئے صبر وتحمل سے کام لیا ہے ۔ اور انہی کو خداوند عالم اس بد تریندن کے شر سے محفوظ رکھا ہے ۔ اور ان کے صبر و تحمل کے انعام میں انہیں جنت و حریر سے نوازا ہے[6]۔
فاطمہ زہراؑ آیت تطہیرمیں
آیۂ تطہیر رسول خداؐ پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ جناب ام سلمہ 239کے گھر میں تشریف فرما تھے اور آپ نے اپنے دونوں نواسوں حسن ؑ و حسین ؑ اور ان کے والد اور والدۂ گرامی کو اپنے پاس بٹھاکر اپنے اور ان کے اوپر ایک چادر ڈال دی تا کہ آپ کی ازواج اور دوسرے لوگ ان سے بالکل علٰیحد ہ ہوجائیں تو یہ آیت نازل ہوئی:(انما یرید اللّٰہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت و یطہرکم تطہیرا[7])اے اہلبیتؑ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ تم سے رجس اور گندگی کو دور رکھے اور تمہیں اسی طرح پاک رکھے جوپاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔یہ حضرات ابھی اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ پیغمبرؐ نے اسی پر اکتفا نہیں کی بلکہ چادر سے اپنے ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف بلند کئے اور یہ دعا فرمائی:’’اللہم ہولاء اہل بیتی فاذہب عنہم الرجس و طہرہم تطہیراً ‘‘۔بارالہٰا! یہ میرے اہلبیت ہیں لہٰذا تو ان سے رجس کو دور رکھنا اور انھیں پاک و پاکیزہ رکھنا۔آپ باربار یہی دہرا رہے تھے اور جناب ام سلمہ یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھیں اور آنحضرتؐکی آواز بھی سن رہی تھیں اسی لئے وہ بھی یہ کہتی ہوئی چادر کی طرف بڑھیں :اے اللہ کے رسول میں بھی آپ حضرات کے ساتھ ہوں؟ تو آپ نے ان کے ہاتھ سے چادر کا گوشہ اپنی طرف کھینچتے ہوئے فرمایا:نہیں تم خیر پر ہو[8]؟
آیت نازل ہونے کے بعد رسول اسلام ؑ کا مسلسل یہ دستور تھا کہ آپ جب بھی صبح کی نماز پڑھنے کے لئے اپنے گھر سے نکلتے تھے تو شہزادیؑ کائنات کے دروازہ پر آکر یہ فرماتے تھے:’’الصلاۃ یا اہل البیت انما یرید اللّٰہ لیذھب عنکم الرجس ویطہرکم تطہیراً‘‘نماز!اے اہلبیت بیشک اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ تم سے ہر رجس اور برائی کو دور رکھے اور تمہیں پاک و پاکیزہ رکھے۔آپ کی یہ سیرت چھ یاآٹھ مہینے تک جاری رہی[9]۔
یہ آیت گناہوں سے اہلبیت ؑ کے معصوم ہونے کی بھی دلیل ہے کیونکہ رجس گناہ کو کہا جاتا ہے اور آیت کے شروع میں کلمۂ ’’ انّما ‘‘آیا ہے جو حصرپردلالت کرتا ہے جسکے معنی یہ ہیں کہ ان کے بارے میں اللہ کا بس یہ ارادہ ہے کہ ان سے گناہوں کو دوررکھے اور انہیں پاک وپاکیزہ رکھے اور یہی حقیقی اور واقعی عصمت ہے جیسا کہ نبھانی نے تفسیر طبری سے آیت کے یہی معنی وضاحت کے ساتھ بیان کئے ہیں[10]۔
مودت زہرا ؑ اجر رسالت
جناب جابر نے روایت کی ہے کہ ایک دیہاتی عرب رسول خدا ؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا اے محمدؐ مجھے مسلمان بنادیجئے آپ نے فرمایا:یہ گواہی دو:’’لا الہ الاا للّٰہ وحدہ لا شریک لہ وان محمداً عبدہ ورسولہ‘‘۔’’اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ،وہ لا شریک ہے اور محمد اس کے بندہ اور رسول ہیں‘‘۔اس نے کہا آپ مجھ سے کوئی اجرت طلب کریں گے؟فرمایا: نہیں صرف قرابتداروں کی محبت ،اس نے کہامیرے قرابتداروں یا آپ کے قرابتداروں کی؟ فرمایا میرے قرابتداروں کی وہ بولا میں آپ کی بیعت کرتا ہوں لہذا جو شخص بھی آپ اورآپ کے قرابتداروں سے محبت نہ کرے اس پر خدا کی لعنت ہو ،آپ نے فرمایا آمین[11]۔
مجاہد نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ اس مودت سے آپ کی پیروی آپ کی رسالت کی تصدیق اور آپ کے اعزاء سے صلۂ رحم کرنا مراد ہے جب کہ ابن عباس نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ :آپ کی قرابتداری کا خیال رکھ کر اس کی حفاظت کی جائے [12]۔زمخشری نے ذکر کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اسی وقت رسول اللہ ؐ سے یہ سوال کیا گیا:اے اللہ کے رسول آپ کے وہ قرابت دار کون ہیں جن کی محبت ہمارے اوپر واجب کی گئی ہے؟آپ نے فرمایا:علی ؑ فاطمہ 236اور ان کے دونوں بیٹے[13]۔
فاطمہ زہرا ؑ آیۂ مباہلہ میں
تمام اہل قبلہ حتی کہ خوارج کا بھی اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ نبی اکرم ؐ نے مباہلہ کے لئے عورتوں کی جگہ صرف اپنی پارۂ جگر جناب فاطمہ زہراؐ کو اور بیٹوں میں اپنے دونوں نواسوں امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ کو اور نفسوں میں صرف حضرت علی علیہ السلام کو ساتھ لیاجو آپ کے لئے ویسے ہی تھے جیسے موسیٰ کے لئے ہارون اور عیسائیوں سے مباہلہ کرنے کے لئے تشریف لے گئے اور صرف یہی حضرات اس آیت کے مصداق ہیں اور یہ ایک ایسی واضح و آشکار چیز ہے جس کا انکارکسی کے لئے ممکن نہیں ہے اوراس فضیلت میں کوئی بھی آپ حضرات کا شریک نہیں ہے اور جو شخص بھی تاریخ مسلمین کی ورق گردانی کرے گا اسے روز روشن کی طرح یہی نظر آئے گا کہ یہ آیت ان ہی سے مخصوص ہے اور ان کے علاوہ کسی اور کے لئے نازل نہیں ہوئی ہے[14]۔نبی اکرم ؐ ان حضرات کو اپنے ساتھ لے کر عیسائیوں سے مباہلہ کرنے کے لئے تشریف لے گئے اور آپ نے ان پر فتح حاصل کی، اس وقت امہات المومنین (ازواج نبیؐ)سب کی سب اپنے گھروں پر موجود تھیں مگر آپ نے ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں بلایا اور نہ ہی اپنی پھوپھی جناب صفیہ اور اپنی چچازاد بہن جناب ام ہانی کوساتھ لیا اور نہ ہی خلفائے ثلا ثہ کی ازواج یا انصار و مھاجرین کی عورتوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ لے گئے۔
اسی طرح آپ نے جوانان جنت کے دونوں سرداروںیعنی (امام حسن اور امام حسین ؑ )کے ساتھ بنی ہاشم یاصحابہ کے کسی بچہ اور جوان کو نہیں بلایا اور نہ ہی حضرت علی ؑ کے علاوہ اپنے اعزاء واقرباء اور ابتدائی اور قدیم مسلمانوں اور اصحاب میں سے کسی کو دعوت دی اورجب ان چاروں حضرات کولے کر آپ باہر نکلے تو آپ کالے بالوں والی چادر اوڑھے ہوئے تھے جیسا کہ امام فخر رازی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ امام حسین ؑ آپ کی آغوش میں اور امام حسن ؑ آپ کی انگلی پکڑے ہوئے تھے جناب فاطمہؐ آپ کے پیچھے اور ان کے بعد حضرت علی ؑ چلے آرہے تھے اور آنحضرتؐ ان سے یہ فرما رہے تھے : جب میں دعا کروں توتم لوگ آمین کہنا، اُدھر اسقف نجران نے کہا:اے میرے عیسائی بھائیو!:میں ان چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ خدا سے پہاڑ کو اس کی جگہ سے ہٹانے کی دعا کردیں تو وہ اسے وہاں سے ،ہٹادے گا لہذا ان سے مباہلہ نہ کرنا ورنہ مارے جاؤگے اور قیامت تک روئے زمین پر کسی عیسائی کا نام ونشان باقی نہیں رہ جائے گا[15]۔
فخر رازی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:یہ آیت دلیل ہے کہ حسنؑ اور حسینؑ رسول اللہ ؐ کے فرزندہیں کیونکہ آپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے بیٹوں کولے کر آئیں گے اور آپ حسن و حسین ؑ کو ساتھ لائے تھے لہذا ان دونوں کا فرزند رسولؐہونا بالکل طے شدہ بات ہے[16]۔شہزادئ کائنات سلام اللہ علیہا سید المرسلین ؐکی نگاہ میں!رسول اکرم ؐ نے فرمایا ہے:(أن اللّہ لیغضب لغضب فاطمۃ ، و یرضی لرضاھا)بیشک اللہ تعالی فاطمہؐ کی ناراضگی سے ناراض اور ان کے خوش ہوجانے سے راضی ہوجاتا ہے[17]۔ (فاطمۃ بضعۃ منی ؛ من آذاھا فقد آذانی ، و من أحبھا فقد أحبنی)فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور جس نے اس سے محبت رکھی اس نے مجھ سے محبت رکھی ہے[18]۔(فاطمۃ قلبی و روحی التی بین جنبی)فاطمہ میرا دل اور میرے دونوں پہلووں کے در میان موجود میری روح ہے[19]۔(فاطمہ سیدہ نساء العالمین)فاطمہ عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں[20]۔اس قسم کی شہادتیں کتب حدیث وسیرت میں رسول اکرم ؐ سے کثرت کے ساتھ مروی ہیں اورجو اپنی خواہش سے کوئی کلام ہی نہیں کرتے تھے نیز رشتہ داری یا دوسرے وجوہات سے بالکل متاثر نہیں ہوتے تھے اور خدا کی راہ میں آپ کو کسی بھی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پروانہیں تھی۔
رسول اکرم ؐنے اپنے کو اسلام کی تبلیغ کے لئے بالکل وقف کر رکھا تھا اور آپ کی سیرت تمام لوگوں کے لئےنمونہ عمل تھی،مختصر یہ کہ آپ کے دل کی دھڑکن،آنکھوں کی جنبش، ہاتھ پیر کی نقل و حرکت اور آپ کے افکار کی شعاعیں قول،فعل اور تقریر(یعنی آپ کی سنت)بلکہ آپ کا پورا وجود ہی دین کی علامت ،شریعت کا سر چشمہ، ہدایت کا چراغ اور نجات کا وسیلہ بن گیا۔جتنا زمانہ گذرتا جارہا ہے اور اسلامی سماج جتنی ترقی کر رہا ہے اتنا ہی ان سے ہماری محبتوں میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے یا جب بھی ہم آنحضرت کے کلام میں اسلام کے اس بنیادی نکتہ کو دیکھتے ہیں کہ آنحضرتؐ نے ان سے یہ فرمایا تھا : ’’یا فاطمۃ اعملی لنفسک فانّی لا اغنی عنک من اللّہ شیئاً‘اے فاطمہؑ اپنے لئے عمل کرو کیونکہ میں خدا کی طرف سے تمہارے لئے کسی چیز کا ذمہ دار نہیں بن سکتا ہوں[21] (یعنی ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے)۔آپ ؐ نے فرمایا :(کمل من الرجال کثیر ، و لم یکمل من النساء إلا مریم بنت عمران ، و آسیۃ بنت مزاحم امرأۃ فرعون ، و خدیجۃ بنت خویلد و فاطمۃ بنت محمد )کامل مردتو بہت سارے ہیں مگر کامل عورتیں مریم بنت عمران ،فرعون کی زوجہ آسیہ بنت مزاحم، خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد ؐ کے علاوہ کوئی نہیں ہے[22]۔نیز آپ ؐنے فرمایا :(إنما فاطمۃ شجنۃ منی ، یقبضنی ما یقبضھا ، و یبسطنی ما یبسطھا ۔ و إن الأنساب یوم القیامۃ تنقطع غیر نسبی و سببی و صھری ...)فاطمہ میری ایک شاخ ہے اور جو چیز اسے خوش کرتی ہے اسی سے مجھے بھی خوشی ہوتی ہے[23] اور قیامتکے دن میرے نسب وسبب اور دامادی کے علاوہ تمام نسب ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے[24]۔ایک دن پیغمبر اسلام ؐ جناب فاطمہؐ کا ہاتھ پکڑے ہوئے نکلے اور آپ ؐ نے فرمایا:(من عرف ھذہ فقد عرفھا ، و من لم یعرفھا فھی فاطمۃ بنت محمد ، و ھی بضعۃ منی ، و ھی قلبی الذی بین جنبی ؛ فمن آذاھا فقد آذانی ، و من آذانی فقد آذی اﷲ)جو اسے جانتا ہے وہ تو اسے جانتا ہی ہے اور جو نہیں جانتا وہ اسے پہچان لے کہ یہ فاطمہ بنت محمد ہے اور یہ میرا ٹکڑا ہے اور یہ میرے دونوں پہلووں کے در میان دھڑکنے والا میرا دل ہے لہذا جس نے اسے ستایا اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف دی ہے[25]۔
نیز فرمایا: (فاطمۃ أعز البریّتۃ علیّ)فاطمہ ؐ تمام مخلوقات میں مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں[26]۔آپ کی عصمت کی طرف موجود ان اشاروں کے بعد ہمارے لئے ان احادیث کی تفسیر کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے بلکہ یہ احادیث توآپ ؐ کی عصمت کے ساتھ اس بات کی شاہد ہیں کہ آپ صرف خدا کے لئے ناراض ہوتی ہیں اور خدا کے لئے راضی اور خوش ہوتی ہیں۔فاطمہ زہرا ؑ ائمہ ،صحابہ اور مورخین کے اقوال کی روشنی میںامام زین العابدین ؑ نے فرمایا ہے :’’ لم یولد لرسول اللہ ؐمن خدیجۃ علی فطرۃ الاسلام الا فاطمۃ ‘‘اعلان اسلام کے بعد جناب فاطمہ ؐکے علاوہ جناب خدیجہ ؑ سے رسول اکرم کی کوئی اور اولاد نہیں ہوئی [27]۔امام محمد باقر سے منقول ہے :(و اﷲ لقد فطمھا اللّہ تبارک و تعالی بالعلم [28])خدا کی قسم اللہ تبارک تعالیٰ نے آپ کو علم سے سیر و سیراب فرمایاہے۔امام جعفر صادق سے منقول ہے:(انّھا سُمِّیَتْ فاطمۃ لانّ الخلق فَطَمُوْا عَنْ مَعرِفَتَھا[29])آپ کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ مخلوقات کو آپ کی معرفت سے عاجزرکھا گیا ہے۔
ابن عباس سے منقول ہے ایک دن رسول اکرم ؐ تشریف فرماتھے اور آپ کے پاس علی ؑ ،فاطمہ اور حسنؑ و حسینؑ بھی موجود تھے ،تو آپ نے ارشاد فرمایا:(اللّٰھم إنک تعلم أن ھؤلاء أھل بیتی و أکرم الناس علی ؛ فأحبب من أحبھم و أبغض من أبغضھم ، و وال من والاھم و عاد من عاداھم ، و أعن من أعانھم ، واجعلھم مطھرین من کل رجس ، معصومین من کل ذنب و أیدھم بروح القدس نک[30])پروردگارا تو بہتر جانتا ہے یہ میرے اہلبیت ہیں اور میرے اوپر ہرایک سے زیادہ کریم و مہربان ہیں لہذا جو ان سے محبت رکھے اس سے محبت رکھنا اور جو ان سے بغض رکھے اس سے بغض رکھنا جوان کا چاہنے والا ہو اس سے دوستی رکھنا اور جو ان کا دشمن ہو اس سے دشمنی رکھنا جو ان کی نصرت کرے اس کی مدد فرما نا اور انھیں ہر برائی اور گندگی سے طیب وطاہر اور ہر گناہ سے محفوظ رکھنا اور روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید فرمانا۔
جناب ام سلمہ سے یہ روایت ہے:کہ انھوں نے کہا فاطمہ ؐ بنت رسول اللہ ،آپ ؐ سے شکل و صورت میں سب سے زیادہ مشابہ تھیں ۔ ام المومنین عائشہ نے کہا ہے :میں نے فاطمہ(س) کے بابا کے علاوہ کسی کو ان سے زیادہ زبان کا سچانہیں پایا سوائے ان کی اولادکے[31]! اور جب وہ رسول خدا ؐ کی خدمت میں پہو نچتی تھیں تو آپ ان کے احترام میں کھڑے ہوجاتے تھے ان کو بوسہ دیتے خوش آمدیدکہتے اور ان کا ہاتھ پکڑکرانھیں اپنی جگہ بٹھاتے تھے اسی طرح جب نبی کریم ؐ ان کے پاس تشریف لاتے تھے تو وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوکر ان کو بوسہ دیتی تھیں اور ان کا کاندھا پکڑکر اپنی جگہ بٹھاتی تھیں اور پیغمبراکرمؐ مسلسل انھیں اپنے اسرار (راز)بتاتے رہتے تھے اور اپنے کاموں میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے[32]۔حسن بصری سے منقول ہے:اس امت میں فاطمہ ؐ سے بڑا کوئی عابد نہیں آپ اتنی نمازیں پڑھتی تھیں کہ آپ کے دونوں پیروں پر ورم آجاتا [33]۔ایک روز عبد اللہ بن حسن، اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے پاس گئے اس وقت اگر چہ وہ بالکل نو عمر تھے مگر اتنے پر وقار تھے کہ عمر بن عبد العزیز اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا اوراس نے آگے بڑھ کر آپ کا استقبال کیا اور آپ کی ضروریات پوری کرنے کے بعد آپ کے پیٹ پر اتنی زور سے چٹکی لی کہ وہ درد سے چنچ پڑے پھر ان سے کہا :اسے شفاعت کے وقت یاد رکھنا[34]جب وہ واپس چلے گئے تو اس کے حوالی موالیوں نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ایک نو عمر بچہ کا اتنا احترام کیوں؟تو اس نے جواب دیا:مجھ سے ایسے قابل اعتماد اور ثقہ شخص نے نقل کیا ہے ۔
جیسے میں نے خود اپنے کانوں سے رسول کی بابرکت زبان سے یہ جملے سنے ہوں کہ آپ نے فرمایا:فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس سے وہ خوشی ہوتی ہے اسی سے مجھے بھی خوش ہوتی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اگر جناب فاطمہ ؐ زندہ ہوتیں تو ان کے بیٹے کے ساتھ میں نے جو یہ نیک برتاؤ کیا ہے وہ اس سے ضرور خوش ہوتیں پھر انہوں نے پوچھا کہ مگر یہ چٹکی لینے اور یہ سب کہنے کی کیا ضرورت تھی؟اس نے کہا:بنی ہاشم میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کو حق شفاعت حاصل نہ ہو لہذا میری یہ آرزوہے کہ مجھے ان کی شفاعت نصیب ہوجائے[35]۔ابن صباغ مالکی نے کہا ہے :یہ اس شخصیت کی بیٹی ہیں جن پر ’’سبحان الذی اسریٰ‘‘(پاک وپاکیزہ ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا)،نازل ہوئی سورج اور چاندکی نظیرخیرالبشر کی بیٹی، دنیا میں پاک وپاکیزہ پیدا ہونے والی ،اور محکم و استوار اہل نظرکے اجماع کے مطابق سیدہ و سردارہیں۔حافظ ابو نعیم اصفہانی نے آپ کے بارے میں یہ کہا ہے :چنتدہ عابدوں اور زاہدوں میں سے ایک ، متقین کے در میان منتخب شدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا،سیدہ ،بتول،رسول سے مشابہ اور ان کا ٹکڑا ...آپ دنیا اور اسکی رنگینوں سے کنارہ کش اور دنیا کی برائیوں کی پستیوں اور اس کی آفتوں سے اچھی طرح واقف تھیں[36]۔ابو الحدیدمعتزلی یوں رقمطراز ہیں:رسول اکرم نے جناب فاطمہ زہرا 236 کا اتنا زیادہ احترام کیا ہے جس کے بارے میں لوگ گمان بھی نہیں کرسکتے ہیں،حتی کہ آپ اس کی بنا پر باپ اور اولاد کی محبت سے بھی بلندتر مرتبہ پر پہونچ گئے۔
اسی وجہ سے آپ نے نجی نشستوں اور عام محفلوں میں ایک دوبار نہیں بلکہ باربار فرمایا اور ایک جگہ نہیں بلکہ متعدد جگہوں پر یہ ارشاد فرمایا:(إنھا سیدۃ نساء العالمین ، و إنھا عدیلۃ مریم بنت عمران ، و إنھا إذا مرت فی الموقف نادی مناد من جھۃ العرش : یا أھل الموقف ! غضوا أبصارکم ؛ لتعبر فاطمۃ بنت محمد)یہ عالمین کی عورتوں کی سید وسردار ہے یہ مریم بنت عمران کی ہم پلہ ہے اور جب روز قیامت میدان محشرسے ان کا گذر ہوگا تو عرش کی طرف سے ایک منادی یہ آواز دے گا: اہل محشر اپنی نظریں جھکا لوتا کہ فاطمہؐ بنت محمدؐ گذر جائیں،یہ صحیح احادیث میں سے ہے اور ضعیف حدیثوں میں نہیں ہے اور ایک دوبار نہیں بلکہ آپؐ نے نہ جانے کتنی بار یہ ارشاد فرمایا: (یؤذینی ما یؤذیھا ، یغضبنی ما یغضبھا ،و إنھا بضعۃ منی ؛ یریبنی ما رابھا[37]) جسبات سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف پہنچتی ہے اور جس بات سے اسے غصہ آتاہے اسی سے میں بھی غصہ (ناراض)ہوجاتاہوں اور وہ تو میرا ٹکڑا ہے۔
موجودہ دور کے مورخ ڈاکٹر علی حسن ابراہیم نے لکھا ہے:جناب فاطمہ ؐ کی زندگی ،تاریخ کا وہ نمایاں ورق ہے جسمیں عظمت کے مختلف رنگ بھرے ہوئے ہیں اور آپ بلقیس یاکلوپطرہ کی طرح نہیں تھیں جن کی عظمت و منزلت کاکل دار مدار ان کے بڑے تخت (بے پناہ دولت و ثروت اورلاجواب حسن و جمال پر تھا اور نہ ہی آپ عائشہ کی طرح تھیں جنہوں نے لشکر کشی اور مردوں کی قیادت کی وجہ سے شہرت حاصل کی بلکہ ہم ایک ایسی شخصیت کی بارگاہ میں حاضر ہیں جن کی حکمت و جلالت کی چھاپ پوری دنیا میں ہر جگہ دکھائی دیتی ہے ایسی حکمت جسکا سر چشمہ اور ماخذ علماء اور فلاسفہ کی کتابیں نہیں ہیں بلکہ یہ وہ تجربات روزگار ہیں جو زمانہ کی الٹ پھیراور حادثات سے بھرے پڑے ہیں نیز آپ کی جلالت ایسی ہے جسکی پشت پر کسی طرح کی ثروت و دولت اور حکومت کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ یہ آپ کے نفس کی پختگی کا کرشمہ ہے[38]۔
حوالہ جات
[1] یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب پیغمبرؐ کے فرزند عبد اللہ کہ جو خدیجہ کے بطن سے تھے ان کا انتقال ہو گیا تھا اور پیغمبرؐ کی اولاد ذکور میں سے کوئی باقی نہیں بچا تھا۔
[2] تفسیر کبیر ،ج۳۲،ص۱۳۲۔
[3] تاریخ بغداد : ج ۱ ،ص ۳۱۶ ، ریاض النضرہ : ج۲ ، ص ۱۶۸ ، کنز العمال: ج ۱۱ ح ،۳۲۸۹۲۔
[4] صحیح بخاری : کتاب صلح ، صحیح تر مذی : ج ۵ ، ح ۳۷۷۳ ،ط احیاء تراث ،مسند احمد : ج۵ ، ص ۴۴ تاریخ بغداد: ج۳ ، ص ۲۱۵ ، کنز العمال: ج ۱۲ ،۱۳ احادیث ۳۴۳۰۴،۳۴۳۰۱ ، ۳۷۶۵۴۔
[5] سورۂ دہر یا ھل اتیٰ یا انسان۔
[6] ملاحظہ فرمایئے :کشاف مولفہ زمخشری ،تفسیر کبیر مولفہ ثعلبی ،اسد الغابہ ج۵ ص۵۳۰اور تفسیر فخر رازی۔
[7] سورۂ احزاب ۳۳۔
[8] صحیح مسلم :کتاب فضائل صحابہ ومستدرک صحیحین،۳؍۱۴۷،الدر المنثور،ذیل تفسیر آیۂ تطہیر،تفسیر طبری۲۲؍۵،صحیح ترمذی ۵ حدیث۳۷۸۷،مسند احمد ۶؍۲۹۲و۳۰۴،اسد الغابہ ۴؍۲۹،تہذیب التہذیب۲؍۲۵۸۔
[9] الکلمۃ الغراء فی تفضیل الزہراص۲۰۰،علامہ سید عبدالحسین شرف الدین فرماتے ہیں:اسے امام احمد نے اپنی صحیح کی ج۳ ص ۲۵۹ ،پر اور حاکم نے بھی نقل کیا ہے نیز اسے ترمذی نے صحیح اور ابن ابی شبیہ،ابن حریر،ابن منذر ،ابن مردویہ اور طبرانی و غیرہ نے (حسن) قرار دیا ہے ۔
[10] الکلمۃ الغراء فی تفضیل الزہرا،ص ۱۰۰۔
[11] حلیۃ الاولیاء:ج۳، ص۲۰۱، تفسیر الطبری: ج۲۵،ص ۲۵ ۔۱۶۔ ۱۷ ، تفسیر المنثور سورۂ شوریٰ کی تیسری آیۃ کی تفسیر ، الصوائق المحرقۃ: ۲۶۱و اسد الغایۃ :ج۵،ص۳۶۷۔
[12] فضائل الخمسہ بن الصحاح الستہ ج۱ ص۳۰۷۔
[13] الکشاف فی تفسیرا الآیہ ، و تفسیر الکبیر : فخر رازی ، اور الدر المنثور : اور ذخائرلعقبی :۳۵ ٰ الغدیر :ج ۳ ۔علامہ امینی نے اس آیت کے شان نزول کے بارے میں کہ یہ اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے ۴۵ ماخذ ذکر کئے ہیں۔
[14] الکلمۃ الغراء فی تفضیل الزہرا:ا۸ا۔
[15] علامہ سید عبد الحسین شرف الدین کہتے ہیں:اس واقعہ کو تمام محدثین اور مورخین نے دسویں ہجری کے واقعات کی تفسیر کے ذیل میں تحریر کیا ہے اور یہی مباہلہ کا سال ہے اسی طرح ملاحظہ کیجئے صحیح مسلم کتاب فضائل صحابہ ،کشاف زمخشری سورۂ آل عمران کی ۶۱ ویں آیت ۔
[16] تفسیر الکبیر : آیۃ کی تفسیر کے ذیل میں، الصواعق المحرقہ : ۲۳۸۔
[17] کنز العمال :ج ۱۲، ص ۱۱۱، مستدرک صحیحین :ج ۳، ص ۱۵۴ ، میزان الاعتدال :ج ۱،ص۵۳۵۔
[18] صواعق المحرقۃ : ۲۸۹، الامامۃ والسیاسۃ :ص ۳۱ ،کنز العمال : ج۱۲ ، ص۱۱۱، خصائص النسائی: ۳۵ ، صحیح مسلم : کتاب فضائل الصحابۃ۔
[19] فرائد السمطین :ج۲ ،ص۶۶۔
[20] المستدرک صحیحین : ج۳ ،ص۱۷۰، وابو نعیم فی حلیۃ الاولیاء : ج۲،ص ۳۹،والطحاوی فی مشکل الآثار : ج ۱ ،ص ۴۸ ،وشرح نہج البلاغہ لابن ابی الحدید : ج۹ ،ص ۱۹۳ ، والعوالم :ج۱۱ ،ص ۱۴۱۔ ۱۴۶۔
[21] فاطمہ الزہراء وتر فی غمد: مقدمہ از قلم سید موسیٰ صدر۔
[22] رواہ صاحب الفصول المہمہ ۲۷، تفسیر الوصول :ج۲ ،ص۱۵۹ ، شرح ثلاثیات مسند احمد :ج ۲ ،ص ۵۱۱ ۔
[23] الشجنۃ : اشعبۃ من کل شیء اشجنھہ کالغصن یکون من الشجرۃ . مستدرک الحاکم :ج۳ ،ص ۱۵۴ ، کنز العمال :ج ۱۲، ص ۱۱۱ ح ، ۳۴۲۴۰ ۔
[24] مسند احمد : ج۴، ص ۳۲۳ ۔ ۳۳۲ ، والمستدرک :ج ۳ ،ص ۱۵۴ ۔۱۵۹۔
[25] فصول المہمہ : ۱۴۴ ، و رواہ فی کتاب المختصر عن تفسیر الثعلبی :۱۲۳۔
[26] امالی الطوسی : مجلس ۱ ح ۳۰ ،والمختصر :۱۳۶۔
[27] روضۃالکافی : ح ۵۳۶۔
[28] کشف الغمہ :ج۱ ،ص ۴۶۳۔
[29] بحار الانوار :ج ۴۳، ص ۱۹۔
[30] بحار الانوار :ج۴۳ ،ص ۶۵۔ ۲۴۔
[31] اہل البیت : ۱۴۴ لتوفیق ابو علم۔
[32] بحار الانوار : ج۴۳ ،ص ۸۴۔
[33] وقرۃ: رزاتۃ و حلم ، الع نۃ الطی الذی فی البطن من السمن ( المختار ؍ باب عکن )۔
[34] الاغالی : ج۸ ،ص ۳۰۷ ، ومقاتل الطالبیین : ۱۲۴۔
[35] الفصول المہمۃ : ۱۴۱،ط بیروت۔
[36] حلیۃ الاولیاء :ج ۲ ،ص ۳۹ ،ط بیروت ۔
[37] شرح نہج البلاغہ :ج۹ ،ص۱۹۳۔
[38] فاطمۃالزہراؑ ء بہجۃ قلب المصطفیٰ : ۲۱۔
ماخوذ از کتاب منارہ ہدایت ج ۳